Wednesday, 31 July 2013

تکے باز اسلامی سکالر


سوشل میڈیا پر ایک جملہ گردش کر رہا ہے مسلمانوتُکا لگاؤ ۔۔۔ جب سنا تو ایک جملہ ِمہمل سمجھ کر نظر انداز کر دیا تاہم چند ہی لمحات میں
اس کی بھرمار اور پھر پاکستان کے ایک بڑے میڈیا گروپ   کے وائس پریذیڈنٹ اور   خود ساختہ اسلامی سکالر   عامر لیاقت  کی زبانی یہ جملہ سن کر بہت تشویش ہوئی۔   ان صاحب کی پہچان بھی  کچھ متنازعہ ہے کہ  دین و سنت میں ان کا  کوئی استاد  نہ مرشد۔ ۔۔اور  بے استاد ا  اپنے اندر موجود جہالت اکثر خارج کرتا رہتا ہے،  اس کی جہالت اس کے قول ، فعل، عمل اور شکل سے ٹپکتی ہے۔  لوگ کہتے ہیں کہ یہ صاحب بنیادی طور پر  اپنے ایک فکری بھائی  جو کہ اپنی مخنثانہ حرکتوں سے معروف ہیں کہ نقش قدم پر چلتے ہوئے  ادکاری ہی کرنا چاہتے تھے مگر  کسی پروڈیوسر نہ ان کی پشت پر ہاتھ نہ رکھا،  نام کے ساتھ ڈاکٹر کا لاحقہ بھی لگا رکھا تھا،  جسمانی مریضوں کو لوٹنے میں کامیاب نہ ہوئے    مذہبی طور پر کمزور ذہن کے مالک سادہ لوح لوگوں کا شکار کیا،  کچھ برس قبل   تک ان کا منہ بطرف لندن  شریف ہوا کرتا تھا ۔ جوشِ خطابت لے ڈوبا اور   ملعون سلمان رشدی کے خلاف  کچھ سچ کہہ دیا،  غالب گمان یہی ہے کہ  یہ واہ واہ کے حصول کا ایک ذریعہ ہی تھا (میں  گمان کے شرعی احکام کو سمجھ کر  لکھ رہا ہوں، لہٰذا مفتیانِ کرام اپنا فتوٰی ضائع نہ کیجئیے)۔  اس پر ان کے آقا اور بڑے بھائی   کی برق برسی اور ان کو ہر طرح کی منقولہ و غیر منقولہ   جائیداد سے عاق کر دیا گیا۔  آج کا دن آتا ہے یہ صاحب خود کو عشاقِ رسول ﷺ کا ترجمان،  تحفظِ ختم نبوت کا سپاہی، عزت رسول ﷺ پر وزارت کو قربان کرنے  کا  اعزاز اپنی جھولی میں بار بار خود ہی ڈال رہے ہیں۔  جب کہ حقیقت یہی ہے کہ نائن زیرو کے کوچے سے بہت رسوا ہو کر نکلے تھے۔  اس قربانی کے بعد کئی ٹوپیاں بدلیں ، ایک موقع پر تو ان کے باطن میں چھپی مغلظات خوب  ظاہر ہوئیں،   عوام کی اکثریت اسے درست سمجھتی ہے کہ اگر جھوٹ ہی تھا تو تھوک کر کیوں چاٹ لیا؟؟؟   جس کی جبلت میں  لالچ اور جھوٹ ہو وہ عزت کی پرواہ نہیں کیا کرتا۔ موصوف  نے دوبارہ اسی  گھر کا  منہ دیکھا جہاں سے رات کے اندھیرے میں نکلے تھے۔

یہی وہ صاحب ہیں جنہوں نے رمضان کو بھی تجارت بنا دیا ہے۔  اب ان کے خربوزے کو دیکھتے ہوئے دیگر ککڑیوں نے بھی رنگ پکڑ لیا ہے اور ان کی پیدا کی ہوئی برائی رکنے کا نام نہیں لے رہی۔  کہاں وہ رمضان جس میں صرف اور صرف رحمان  عزوجل اور اس کے سچے رسول ﷺ کے احکام کا پرچار ہوتا تھا، لوگ سحر ی میں تہجد ادا کرتے، تلاوتِ قرآن کا اہتما م  ہوتا، افطاری میں پورا خاندان جمع ہوتا، توبہ و استغفار مقصود ہوتا،  ادب واحترام   پایا جاتا تھا،  اب ان صاحب کے پھیلائی ہوئی وبا کی ہولناکیوں کی وجہ سے  ماں باپ  دستر خوان پر بیٹھ کر آوازیں دیتے ہیں مگر جوان بیٹیاں اپنے اس شیطان صفت بھائی کا پروگرام دیکھ رہی ہوتی ہیں۔  اب سحر اور افطار میں قرآن کے نغموں کی بجائے مرد و زن کی  مخلوط تالیاں  ، نوجوان  لڑکیوں کی لہلہاتی زلفیں، بن ٹھن کی بیٹھی خواتین،  بھارتی موسیقی پر  سرور،  چند ٹکوں کے کھوٹے تحائف اور شور و غل  کا ایک نہ تھمنے والا سیلاب نظر آتا ہے۔ نوجوان خواتین  کی کال سنتے وقت، اور  لائیو شو میں ان   کو تحائف دیتے ہوئے  ہوئے موصوف کی حالت پانی سے زیادہ پتلی ہوتی ہے۔  عالِم او عالَم کا ڈرامہ رچانا بھی انہیں آتا ہے، کوئی  میری یہ بات ان تک پہنچا دے کہ اگر آپ خود کو عالم سمجھتے ہیں تو جان لیجئیے آپ شریعت محمدی کے عالم نہیں کہ خلیفہ دوم امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں اعلان فرما دیا  تھا کہ  مدینہ منورہ کی مارکیٹ میں تجارت کی اجازت صرف اسی کو ہو گی جو فقہہ اسلامی  جانتا  ہو گا۔   جو تجارت، کاروبار اور خدمات آپ سرانجام دے رہے ہیں  یہ اسلامی نہیں البتہ امن کے تماشے کے طور پر آپ اپنے بھارتی آقاؤں کو خوب خوش کر رہے ہیں۔ آپ نے  توہینِ رسالت کے نام پر وزارت قربان کی تھی تو توہین پاکستان کے نام پر  گندگی کے اس ڈھیر سے اٹھ جائیے جس پر آپ جنت کا لیبل لگا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔  ویسے آپ کا جنت یا شریعت سے کوئی تعلق مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ آپ وہی صاحب ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے  محترم و محتشم داماد سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ پر بھی  اپنی زبان درازکر  چکے ہیں، شاید اس لئیے کہ جب آپ کی خطابت جوش پر ہوتی ہے اس وقت آپ کا دماغ   سننے والوں کے چہروں پر مرکوز ہوتا ہے اور پھر  آپ کا نصب العین تو واہ واہ کا حصول ہے،   اس وقت آپ کا دماغ   ساتھ نہیں دے رہا ہوتا، ویسے اس گستاخی نے آپ کے سامنے بیٹھے آپ کے فکری  دوستوں کو کافی خوش کیا تھا مگر جنت البقیع میں مدفون محسنِ اسلامِ  کامل الحیا والایمان سیدنا عثمان ابنِ عفان رضی اللہ عنہ کو تکلیف ضرور پہنچائی بلکہ مکین ِ گنبدِ خضرا ﷺ کو بھی ناراض کیا، حتٰی کے میرا وجدان کہتا ہے آپ نے حسنین کریمین رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بھی اذیت پہنچائی کے وہ وقت شہادت  درِ عثمان پر پہرہ دار تھے۔ آپ کی اس گستاخی پر معافی آج تک منظرِ عام پر نہیں آئی، لہٰذا  جس ملعون رشدی  کو برا بھلا کہتے ہوئے آپ کی وزارت گئی اس میں اور آپ میں یہ قدر و صفت مشترک پائی جاتی ہے کہ رشدی نے گستاخیِ رسول کی اور آپ نے گستاخی ِصحابی رسول کی۔

آپ کے لئیے میرا ایک اصلاحی اور درمندانہ پیغام ہے کہ توبہ کا در کھلا ہے، جو بیماری آپ نے ہمارے معاشرے میں پھیلا دی ہے اب اس
 روکئیے کہ آپ کی وجہ سے  اکثر ٹی وی چینلز رمضان اور اسلام کے نام پر تجارت کر رہے ہیں۔  مرد کو مرد ہی نظر آنا چاہئیے ، تیسری صفت انسان کو نہیں جچتی، گوٹے، مالا، کڑھائی، شیروانیاں اور رنگ برنگے عمامے اسلام کے ترجمان نہیں، آپ نے تو نعت کو بھی کاروبار  بنا دیا ہے۔ آپ جیسے   رنگ برنگوں کی تعلیمات اسلام کا چہری بگاڑ رہی ہیں،   یہی وجہ ہے کہ درباروں، مزاروں اور آستانوں پر قوالیوں اور  کلاموں پر ڈھول، دھمال اور رقص عام ہو رہا ہے،  ملنگ اور ملنگنیاں  آپ کے  بتائے ہوئے دین کا خوب جنازہ نکالتے ہیں۔  اسلام غریبوں نے پھیلایا تھا، غریب میں ہی ہے، غریب ہی بچائیں گے۔ آپ جیسے سیون سٹار سکالر،  وی آئی پی  نعت خوان اور  بائیسویں سکیل کے مقرر صرف آنکھوں کو ہی بھاتے ہیں، دل میں اترنے کے لئیے جنید و بصری،    خواجہ و فرید، اجمیر و گولڑہ  والوں کی راہ اختیار کرنی پڑے گی،  وہ سنورتے نہیں تھے بلکہ سنوارتے تھے،  وہ  ظاہر نہیں باطن کے طبیب تھے،  ان کی ایک نگاہ فقر لاکھوں کو پکا مؤمن کرتی تھی اور آپ  مؤمنوں کا  بچا کھچا ایمان بھی  برباد کر رہے ہیں۔  پہلے اپنی شکل کو  مؤمنانہ بنائیے تاکہ لوگ کم از کم آپ کے فیشن کی وجہ سے پیسہ برباد  نہ کریں۔ اپنے قول اور فعل میں  توازن  قائم کیجئیے، جو کہتے ہیں پہلے  اپنی ذات پر اس کا اطلاق کیجئیے۔ 

میں آپ کی ڈگری پر بات نہیں کروں گا کہ الفاظ کا ضیاع ہے، مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ یہ اصلی ہیں یا نقلی تاہم گذشتہ روز کسی
 دل جلے نے کہا ہے کہ ڈگریاں اصلی  ہیں بندہ دو نمبر ہے۔  میں ان کی آدھی بات سے اتفاق ہےکیونکہ  آپ سو فیصد ہیں۔۔۔ ویسے معتوب بابر اعوان بھی آپ ہی کے ہم مکتب تو نہیں تھے؟؟؟  سپین کی جس یونیورسٹی   سے انہوں نے ڈاکٹریٹ  خریدی تھی وہ یونیورسٹی بھی گم ہو چکی ہے اور آپ کے ساتھ بھی کہیں  یہی ہاتھ تو نہیں ہوا۔۔ ویسے آپ کو اپنے مغربی اور مشرک آقاؤں سے بھی  کمال لگاؤ ہے کہ ایسی یونیورسٹی سے  ڈگری لی  جس کا نام  ہی  اسلام سے متصادم ہے ۔ خیر آپ کو  ڈگری مطلوب تھی  بے شک وہ  مظفر گڑھ سے دستی لے لیتے 
یا بذریعہ ڈاک منگوا لیتے ، سپین کاہے کو گئے صاحب۔۔۔ٹماٹروں سے زرد کر دینے والی سرزمین پر۔

اب مزید تکے لگانا چھوڑئیے،  کیونکہ اسلام تکوں پر نہیں چلتا، اسلام ایک حقیقت ہے، ایک نظام ہے، شریعت ہے، دستور ہے، منشور ہے اور یہ کام تکوں سے نہیں ہوتا، اس کی حدود و قیود ہیں۔  یہ کالم پڑھ کر تو ویسے بھی آپ  کے  تکے فیل ہو جائیں گے۔ ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی سے باز آجائیے ورنہ ہم فقیر آپ کی جان نہیں چھوڑیں گے۔ بوری تیار کرنا تو ہمیں نہیں آتا کہ یہ آپ کے سابقہ قبلہ میں ہوا کرتا ہے، ہم زبانی اور قلمی جہاد کریں گے اور بلاخوف کریں گے اور جب تک آپ کے سارے تکے فیل نہ ہو جائیں یہ جہاد جاری رہے گا۔ انشاٗ  اللہ
  

Monday, 29 July 2013

طوائف سے بہن تک کا سفر

یہ داستان میری لکھی ہوئی نہیں ہے،  اور مجھے اس کے  لکھاری کا نام  بھی نہیں معلوم، مصنف، مرتب یا اس کے خالق کا تعارف نہیں مل سکا۔ اصلاحِ معاشرہ کی  نیت سے شائع کر رہا ہوں۔ کہانی کا  نام میں نے تجویز کیا ہے۔

مجھے اس کا مجرا دیکھتے ہوئے مسلسل دسواں دن تھا۔ کیا غضب کی نئی چیز ہیرا منڈی میں آئی تھی۔ اس کا نام بلبل تھا۔ جب وہ ناچتی اور تھرکتی تھی تو جیسے سب تماش بین محو ہو جاتے۔ روزانہ اس کو ناچتا دیکھ کے میری شیطانی ہوس مزید پیاسی ہوتی جاتی اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس سے ضرور ملوں گا۔ میں ہر قیمت پر اسے حاصل کرنا چاہتا تھا۔اس دن مجرا کے دوران وہ بجھی بجھی سی دکھائی دے رہی تھی ۔ اس کے ناچ میں وہ روانی بھی نہیں تھی لیکن مجھے اس سے ملنا تھا، بات کرنی تھی اور معاملات طے کرنے تھے۔ مجرے کے اختتام پہ جب سب تماش بین چلے گئے تو میں بھی اٹھا۔ وہ کوٹھے کی بالکنی میں اپنی نائیکہ کے ساتھ کسی بات پر الجھ رہی تھی۔ دروازہ کے تھوڑا سا قریب ہوا تو میں نے سنا کہ وہ اس سے رو رو کر کچھ مزید رقم کا مطالبہ کر رہی تھی۔ مگر نائیکہ اسکو دھتکار رہی تھی اور آخر میں غصے میں وہ بلبل کو اگلے دن وقت پہ آنے کا کہ کر وہاں سے بڑبڑاتی ہوئی نکل گئی۔بلبل کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے، یہ جان کے میرے اندر خوشی کی اک لہر دوڑ گئی۔ چہرے پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی کہ وہ ضرورت پوری کر کے میں اس کے ساتھ جو چاہے کر سکتا ہوں۔ میں اس کی جانب بڑھا، اس کا چہرہ دوسری طرف تھا اور وہ برقعہ پہن رہی تھی۔ پاس جا کر جب میں نے اسے پکارا تو وہ میری طرف مڑی۔ اسکا چہرہ آنسووں سے تر اور برف کی مانند ایسے سفید تھا جیسے کسی نے اس کا سارا خون نکال لیا ہو۔
اس کی یہ حالت دیکھ کر میں چکرا سا گیا اور اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے؟ وہ ایسے کیوں رو رہی ہے؟
میری طرف دیکھتے ہوئے وہ چند لمحے خاموش رہی اور میرے دوبارہ پوچھنے پر گھٹی گھٹی آواز میں بولی "ماں مر گئی۔"
"کیا؟"
جب مجھے اسکی سمجھ نہیں آئی تو وہ بے اختیار روتے ہوئے دوبارہ بولی کہ "آج میری ماں مر گئی۔"
اس جواب سے جیسے میرے منہ کو تالا لگ گیا۔ میری شیطانی ہوس، جس کو پورا کرنے کے لیے میں اس کی جانب آیا تھا، مجھ سے میلوں دور بھاگ گئی۔
"تو تم یہاں کیا کر رہی ہو؟" میں نے غصے اور حیرت سے اس سے پوچھا۔
" کفن دفن کے پیسے نہیں ہیں میرے پاس۔ اس لئے میں مجرا کرنے آئی تھی۔ مگر نائیکہ آج پیسے ہی نہیں دے رہی۔ کہتی ہے بہت مندی ہے۔ تماش بین کوٹھے پر نہیں آتے۔ جو آتے ہیں وہ پہلے کی طرح کچھ لٹاتے نہیں۔ وہ کہہ رہی ہے کہ ایدھی والوں سے اپنی ماں کے کفن دفن کا انتظام کروا لو۔"
اتنا کہہ کے وہ برقعہ پہن کر کوٹھے سے باہر نکل آئی۔
میں بھی اسکے پیچھے چل پڑا،"میں تمھاری ماں کے کفن و دفن کا بندوبست کرتا ہوں۔"
وہ چند لمحے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتی رہی اور پھر خاموشی سے میرے ساتھ بیٹھ گئی۔ گاڑی ٹیکسالی سے باہر نکالتے ہوئے میں نے بلبل سے اس کے گھر کا پتہ پوچھا۔ وہ علاقہ میرے لیے نیا نہیں تھا کئی بار میں وہاں سے گزرا ہوا تھا۔ میں نے گاڑی اس طرف موڑ دی۔ سارا راستہ وہ خاموشی سے روتی رہی۔ میرے پاس اسکو تسلی دینے کے لیے الفاظ بھی نہیں تھے۔کچھ دیر میں ہم بلبل کے گھر پہنچ گئے۔ یہ چھوٹا سا ایک کمرے کا گھر تھا۔ صحن کے بیچ میں چارپائی پر اسکی ماں کی لاش ایک گدلے کمبل میں لپٹی پڑی تھی۔ صحن میں بلب کی پیلی روشنی وہاں بسنے والوں اور گھر کی حالت چیخ چیخ کر عیاں کر رہی تھی۔ چارپائی کے پاس دو بوڑھی عورتیں بیٹھی تھی ۔ ایک کی گود میں سات آٹھ ماہ کا بڑا گول مٹول اور پیارا سا بچہ کھیل رہا تھا۔ آدھی رات ہونے کو آئی تھی۔ جیسے ہی بلبل گھر میں داخل ہوئی، وہ بوڑھی عورتیں بچہ اسے سونپتے اور دیر آنے کی وجہ سے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وہاں سے رخصت ہو گئیں۔ بلبل بچے کو لے کر کمرے کی طرف گئی۔ بچہ بہت بے قرار تھا اور پھر وہ اسکی چھاتی سے لپٹ گیا جیسے صبح سے بھوکا ہو۔
"کیا یہ بلبل کا بچہ ہے؟" یہ ایک نیا انکشاف تھا کہ بلبل شادی شدہ بھی ہے۔چند لمحوں بعد وہ کمرے سے باہر آئی مجھے یونہی کھڑا دیکھ کر پھر کمرے میں گئی اور اک پرانی کرسی اٹھا لائی۔
"سیٹھ جی! معذرت۔ میرے گھر میں آپ کو بیٹھانے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔" وہ کرسی رکھتے ہوئے شرمندگی سے بولی۔میں سر ہلاتے ہوئے اس کرسی پر بیٹھ گیا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہاں سے شروع کروں۔
"تمھارا اصل نام کیا ہے بلبل؟" بالآخر میں نے اس سے پوچھا ۔وہ چپ رہی شاید بتانا نہیں چاہ رہی تھی
افشاں"۔ میرے دوبارہ پوچھنے پر اس نے آہستہ سے کہا۔
" بہت افسوس ہوا تمھاری ماں کی وفات کا۔"
وہ خاموش رہی۔
"تمھارا باپ، بھائی کوئی ہے ؟"
اس نے خاموشی سے "نہیں" میں سر ہلایا۔
"یہ بچہ تمھارا ہے ؟"
اس نے پھر خاموشی سے "ہاں "میں سر ہلایا۔
"تمھارا شوہر کہاں ہے؟"
چند لمحوں بعد وہ بولی "چھوڑ گیا۔"
"تم ہیرا منڈی کیسے گئی تم مجھے ناچنے گانے والی تو نہیں لگتی؟"
اب وہ نظریں اٹھا کر مجھے دیکھتی ہوئی بولی، "سیٹھ جی قسمت وہاں لے گئی۔ گھر میں کوئی مرد نہیں تھا۔ ایک بیمار ماں اور بچے کی ذمہ داری تھی۔ کہیں اور کام نہیں ملا تو ناچاہتے ہوئے بھی مجبورا"یہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔ کچھ عرصے تک نائیکہ نے ناچ گانا سکھایا اور پھر دھندے پر بیٹھا دیا۔۔ وہ مجھے مجرا کرنے کے روزانہ دو سو روپے دیتی ہے اور ساتھ میں تماش بینوں کا بچا کھچا کھانا، جو میں گھر لا کے اپنی ماں کو کھلاتی ہوں اور خود بھی کھاتی ہوں۔ برقعے میں آتی جاتی ہوں جس سے محلے میں کسی کو پتہ نہیں چلتا اور اک بھرم قائم ہے۔ سیٹھ جی، ایسی کتنی ہی بے سہارا گمنام لڑکیاں معاشی حالات کے ہاتھوں مجبور ہو کر ان کوٹھوں پر ناچنے پر مجبور ہیں۔ آپ لوگوں کو کیا پتہ وہ کتنی مجبور ہو کر یہ قدم اٹھاتی ہیں ۔ کوئی لڑکی اپنی خوشی سے یوں سب کے سامنے اپنا جسم، اپنی عزت نیلام نہیں کرتی۔ جو لڑکیاں اک بار اس دلدل میں گر پڑتی ہیں پھر وہ دھنستی ہی چلی جاتی ہیں ۔ اور پھر اس میں ہمیشہ کے لیے ڈوب جاتی ہیں۔" یہ سب کچھ بتاتے ہوئے افشاں کے لہجے میں بے بسی اور بے چارگی تھی جیسے وہ کسی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہی ہو۔میں کچھ دیر اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔ پھر پرس سے چند نوٹ نکالے اور اسکے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا "کل اپنی ماں کی تدفین کروا لینا اور بچے کے لیے کچھ خوارک اور گھر کے لیے راشن پانی لے لینا۔"
وہ اتنے سارے نوٹ ایک ساتھ دیکھ کر حیران ہو گئی۔
"کیا ہوا؟" میں نے اس کو یوں چپ دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"سیٹھ جی مجھے ان روپوں کے بدلے کیا کرنا ہو گا؟" وہ ڈرتے ڈرتے پوچھ رہی تھی۔ شاید یہ سوچ رہی تھی کہ ان نوٹوں کے بدلے سیٹھ پتہ نہیں کب تک اس کا جسم نوچے گا؟ کب تک اس کو سیٹھ کی رکھیل بن کر رہنا پڑے گا؟
اس کی بات سن کر مجھے اپنے آپ سے اتنی نفرت ہوئی کہ میں خواہش کرنے لگا کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں۔ مجھے احساس ہوا کہ میں ذلت اور اپنے کردار کی پستی کی آخری حد کو چھو رہا تھا۔ میں اس بے حس معاشرہ میں ایک تنہا اور بے سہارا لڑکی کی مدد کر رہا تھا مگر وہ اس کو بھی ایک ڈیل کے طور پر سمجھ رہی تھی۔ شاید جہاں سے میں اٹھ کر آیا تھا وہاں پر جانے والے لوگوں سے بغیر کسی وجہ کے مدد کی توقع نہیں کی جاتی۔
میں نے لرزتی آواز میں جواب دیا، "تمھیں کچھ نہیں کرنا پڑے گا۔ اور تم اب کوٹھے پر مجرا کرنے نہیں جاؤ گی۔ اپنے گھر میں رہو گی۔ ہر مہینے تمھیں منی آرڈر مل جایا کرے گا۔ تم نے کرنا بس یہ ہے کہ یہ جو بچہ تمھاری گود میں ہے اس کی تربیت ایسے کرو کہ یہ اک دن بڑا ہو کر تمھارا سہارا بن سکے ۔ یہ جو رقم میں بجھواؤں گا یہ تم پر قرض ہے اور جب تمھارا بیٹا جوان ہو جائے گا، ایک قابل انسان بن جائے گا تو تم مجھے واپس کر دینا۔افشاں حیران پریشان کھڑی مجھے دیکھ رہی تھی۔ اس انسان کو جس کے سامنے ابھی وہ ناچ کر آئی تھی وہ اس سے ایسی باتیں کر رہا تھا۔ پھر وہ بے آواز رو پڑی۔ مجھے سے وہاں رکا نہیں گیا۔ میں نے افشاں کے گھر کا پتہ لیا اور اس کو اپنا کیا وعدہ یاد دلا کر وہاں سے رخصت ہو گیا۔
سارے راستے میں یہی سوچتا رہا۔ "مجھے تم سے کچھ نہیں چاہے۔ مجھے تم سے کچھ نہیں چاہئے افشاں۔جو تم نے مجھے دیا ہے میں اس کا احسان ساری عمر نہیں اتار پاؤں گا۔ تم نے مجھ میں دفن اس انسانیت کو جگا دیا جو میں دولت اور شیطانی ہوس کے نیچے دبا کر مار چکا تھا۔ تم نے مجھے پھر سے انسان بنایا ہے افشاں۔"اس واقعے کے بعد میں ان تمام برے کاموں سے توبہ کر کے اس کی بارگاہ میں گناہوں کا بوجھ لیے حاضر ہوا۔ ہر روز اس کے سامنے اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا، اس سے معافی کی درخواست کرتا۔میں باقاعدگی سے ہر ماہ "افشاں" کو منی آڈر بجھواتا رہا۔ کئی دفعہ دل کیا میں اس مسیحا کو مل کر آؤں جس کی وجہ سے مجھے ان تمام گناہوں اور بدکاریوں سے نجات ملی۔ مگر ہر دفعہ اک شرمندگی آڑے آتی رہی کہ کبھی میں اپنی شیطانی ہوس کے لیے اس کا پیاسا تھا۔ اور پھر وقت گزرتا چلا گیا دن مہینوں میں بدلنے لگے اور مہینے سالوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ مگر میں افشاں کو بھولا نہیں تھا۔ وہ بھی میری طرح بوڑھی ہو گئی ہو گی۔ اور اس کا بیٹا بھی جوان ہو گیا ہو گا۔ پتہ نہیں کسی قابل بنا ہو گا۔ اپنی ماں کا سہارا بنا ہو گا کہ نہیں؟
میرے بچے جوان ہو گئے تھے۔ زندگی اتار چڑھاؤ کے ساتھ مسلسل چل رہی تھی۔ ایک شام چھٹی کے دن جب میں اپنے گھر میں موجود تھا تو ملازم نے آکر مجھے بتایا کہ ایک عورت اور اسکے ساتھ ایک جوان لڑکا آپ سے ملنے آئے ہیں۔
"کون ہیں؟"
"معلوم نہیں صاحب پہلی بار ان کو دیکھا ہے۔" ملازم نے مودبانہ لہجے میں جواب دیا۔
"اچھا انہیں ڈرائینگ روم میں بٹھاؤ میں آرہا ہوں۔"
کون ہو سکتا ہے یہی سوچتے ہوئے میں ڈرائینگ روم کی طرف بڑھا۔
ایک عورت پرنور چہرہ کے ساتھ سفید بڑی چادر میں خود کو چھپائے ہوئے ہاتھ میں ایک پرانی سی ڈائری لیے کھڑی تھی۔ اور اس کے ساتھ اچھے کپڑوں میں ملبوس ایک بڑا ہینڈسم نوجوان کھڑا تھا۔ اس لڑکے کو میں جانتا تھا وہ ہمارے علاقے کا نیا ڈی ایس پی احمد تھا۔
"سلام سیٹھ جی میں افشاں ہوں اور یہ میرا بیٹا احمد ۔"
جونہی اس نے افشاں کا نام لیا میرے ذہن میں اسکا ماضی کا چہرہ گھوم گیا۔ اور پھر مجھے پہچاننے میں دیر نہیں لگی کہ وہ افشاں تھی۔
" آپ مجھے پہچان گئے ناں؟"
میں نے سر ہلاتے ہوئے "ہاں" میں جواب دیا اور ان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔افشاں پھر اپنے بیٹے سے مخاطب ہو کر بولی۔ "احمد بیٹا یہی ہیں میرے مسیحا جن کی بدولت تمھاری ماں گندگی کی دلدل میں گرتے گرتے نکلی اور یہی ہیں جو تمھاری پڑھائی کا تمھیں یہاں اس مقام تک لانے کا ذریعہ ہیں ۔"
" میں انکو جانتا ہوں امی جان ان کا شمار علاقے کے معزز ترین افراد میں ہوتا ہے ۔ مگر میں یہ نہیں جانتا تھا کہ مجھے اس مقام پر لانے میں انکا کردار سب سے اہم ہے۔"
"سیٹھ صاحب جس طرح آپ ہم بے سہارا اور بے کس لوگوں کی زندگی میں مسیحا بن کر آئے اس کا احسان ہم کبھی نہیں بھولیں گے ۔" احمد بڑی مشکور نظروں سے دیکھتا ہوا بڑی عاجزی سے بول رہا تھا۔
"ایسے کہہ کر آپ لوگ مجھے شرمندہ مت کریں۔"
میں نے افشاں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ آج اسکو پکارتے ہوئے بے اختیار میرے منہ سے افشاں بہن نکل گیا۔ میں خود حیران تھا مگر یہ سچ تھا۔افشاں صوفے سے اٹھی اور آگے بڑھ کر پرانی سی ڈائری مجھے تھماتے ہوئے کہنے لگی، "سیٹھ جی اس میں وہ تمام حساب درج ہے ۔۔ میری ماں کی تدفین سے لے کر آپ کے آخری منی آڈر تک۔ میں نے اک اک پائی کا حساب رکھا۔ آپ کے دیے پیسوں کا امانت کے طور پر استعمال کیا۔ اپنے بیٹے کو ایک قابل انسان بنایا۔ آپ نے مجھے بائیس سال پہلے کہا تھا کہ یہ قرض ہے اور یہ تب واپس کرنا جب تمھارا بیٹا ایک قابل انسان بن جائے۔"
کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد افشاں پھر سے بولی، "سیٹھ جی آج وہ وقت آگیا ہے۔ میں آپ کے احسانوں کا بوجھ تو میں نہیں اتار سکتی مگر جو پیسے آپ نے مجھے دئیے تھے میرا بیٹا وہ ضرور اتارے گا۔ اور آپ سے درخواست ہے آپ انکار مت کریں۔"میں افشاں کو بڑی تحسین نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ آخر اس نے وہ کر ہی دکھایا۔ یقیناً قول و قرار کو نبھانا، وعدہ پر قائم رہنا اک اچھے کردار کے حامل انسان کی بڑی نشانی ہے۔ یہ سب سن کر میرے دل میں اسکی عزت اور احترام اور بڑھ گیا۔
"میں نے تم کو بہن کہا ہے افشاں بہن۔ اور میں کیسے تم سے یہ پیسے واپس لے سکتا ہوں۔ مجھے یوں شرمندہ مت کرو۔"
میرے رکے رکے الفاظ میں پیسے نہ لینے کی معذرت چھپی تھی۔ مگر وہ بضد تھی۔ مجھے اس کے سامنے ہار ماننا پڑی اور وہ تمام پیسے جو میں اسکو منی آڈر کی صورت میں بھیجتا تھا اس کو واپس لینے کی حامی بھرنی پڑی۔ پھر وہ دونوں مجھے اپنے نئے گھر کا پتہ دے کر اور آنے کی تاکید کر کے وہاں سے چلے گئے۔
"ارم میں نے تمہیں کسی سے ملوانا ہے میرے ساتھ چلو گی۔؟ " شام کو میں نے اپنی بیگم سے کہا۔
"کیوں نہیں چلوں گی۔ مگر کون ہے؟ اور کس سلسلے میں ملنا ہے؟" بیگم نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی۔
"میں نے روبی بیٹی کے لیے ایک لڑکا پسند کیا ہے ۔ تم مل لو اگر تم کو پسند آجائے تو پھر اس کے بعد روبی سے بات کر لینا۔" میں نے مختصر لفظوں میں اسے وجہ بتائی۔
اگلے دن میں اور میری بیگم ارم ناز افشاں کے گھر میں تھے۔ ارم کو بھی احمد بہت پسند آیا۔ ہم نے پھر افشاں سے احمد اور روبی کے رشتے کی بات کی۔ افشاں کو بھلا اس سے کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ وہ پھولے سے نہیں سما رہی تھی۔ اور یوں میری بیٹی کا رشتہ افشاں کے بیٹے احمد سے طے ہو گیا۔ وہ تعلق جو اک طوائف اور تماش بین جیسے گندے رشتے سے شروع ہوا تھا اس کا اختتام ایک نہایت مہذب رشتے کی شکل میں ہوا۔یہ سچ ہے کہ ہر انسان کو قدرت سدھرنے کا موقعہ ضرور دیتی ہے۔ کبھی گندگی کے ڈھیر سے اس کو ایسا سبق سیکھا دیتی ہے، کبھی دو بھٹکے لوگوں ملا کر سیدھے راہ پر لے آتی ہے اور انسان ساری زندگی اسی کے مطابق گزارنے کو فخر محسوس کرتا ہے۔ کبھی وہ طوائف اور میں تماش بین تھا۔ مگر آج وہ میری منہ بولی بہن اور اس کا بیٹا میری بیٹی کا شوہر ہے۔ اور مجھے ان دونوں رشتوں پر فخر ہے۔

Tuesday, 23 July 2013

سر کے بالوں کی بیماریوں کا علاج














                                                                                                                                                       سر کے بالوں کی بیماریوں کا علاج

گذشتہ کئی ہفتوں سے  لکھنے کا سلسلہ تعطل کا شکار  ہے، ذاتی مصروفیات اور پھر رمضان المبارک کی آمد بھی  معمولات میں خرابی  کا ذریعہ بنی۔  قارئینِ کرام کی
 طرف سے بھجوائی جانے والی تجاویز کے پیش نظر بہت سارے عنوانات زیرِ غور تھے، اس کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ اور میری اپنی دلچسپی کے عنوانات  بھی اشاعت کے منتظر ہیں۔  اب اسے حسنِ اتفاق کہئیے یا ایک فطری ردِ عمل کے جب سے میں نے انٹرنیٹ پر مضامین شائع کرنا شروع کئیے ہیں تب سے اس بات کا احساس ہوا کہ خواتین قارئین کی تعداد زیادہ ہے اور انہیں خواتین نے میرا قلم سیاست، معاشرت اور مذہبی مضامین سے ہٹا کر صحت کے مضامین کی طرف موڑ 
دیا ہے۔

خواتین کا ایک عام مسئلہ سر کے بالوں کا ہے،  بالوں کا ٹوٹنا، کمزور ہونا، بالوں کا گرنا، جھڑنا، نشو و نما میں رکاوٹ،  جلدی سفید ہو جانا  اور لمبے نہ ہونا وغیرہ
 وغیرہ۔
سر کے بال نسوانی حسن و شخصیت کا اہم حصہ اور جز ہیں۔  اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ نے عورتوں کو سر کے لمبے بالوں سے اور مردوں کو داڑھیوں سے زینت بخشی ہے۔  اسی طرح تاریخِ انسانی میں ہر دور کے افراد نے اپنے اپنے ذوق، علم اور فن کے ذریعے بالوں کا تذکرہ کیا ہے۔ معصیت میں مبتلا شعرا نے اپنے کلام میں نسوانی زلفوں کے ذریعے اپنے کلام  کی تشہیر  کا راستہ نکالا اور کسی نے اپنے افسانے و ناول کا مرکزی خیال بالوں کو بنایا۔ الغرض زمانہ قدیم سے بالوں کے حسن کو اہمیت حاصل رہی ہے ۔   ایک تاریخی حقیقت  جسے آپ لاکھ کوششوں کی باوجود جھٹلا نہیں پائیں گے کہ   سر کے بالوں کی جو حفاظت اسلامی معاشرے میں ہوئی وہ  مغربی اور غیر مسلم معاشرے میں نظر نہیں آتی۔  مغربی اور  غیر مسلم معاشرے میں  متعدد خواتین کے سر کے بال  مردوں  جیسے ہی ہوتے ہیں،  اور وہ خواتین باقاعدگی سے ہر ہفتے بال کٹواتی ہیں، لہٰذا انہیں بالوں کے حسن اور ان کی افزائش سے کوئی خاص لگاؤ نہیں ہوتا۔  اس کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ننگے سر رکھنے کی وجہ سے ان کے سر میں مٹی، گرد و غبار پڑھتا ہے اور وہ وہ لمبے بالوں کی حفاظت نہ کر پانے کی وجہ سے بال کٹوا دیتی ہیں۔ اس کے بر عکس اسلام میں پردہ کا اہتما م ہوتا ہے، خواتین سر پر دوپٹہ اوڑھتی ہیں، اسلام نے باقاعدہ کنگھی کے احکام سکھائے ہیں، طریقہ اور سلیقہ بتایا ہے کہ کیسے کنگھی کی جائے۔  تیل کیسے لگایا جائے وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ پردہ دار خواتین کے بال دراز  اور خوبصورت ہوتے ہیں۔
آج سے  بیس پچیس سال پہلے  بہت کم خواتین ایسی تھیں جو سر میں شیمپو کا استعمال کرتی ہوں، وقت گزرتا گیا اور یورپ سے شیمپو کی صورت میں زہر ہمارے سروں میں پہنچتا گیا۔ آج حالت یہ ہے کہ گھر میں کھانے کو دال بے شک نہ ملے  سر دھونے  کو شیمپو ضروری ہو چکا۔
بالوں کی حفاظت کے لئیے چند تراکیب پیش کر رہا ہوں۔ اگر بخوبی عمل کریں گے تو  شیمپو اور دیگر مہنگی چیزوں سے نجات مل جائے گی۔ انشا أللہ۔

سکری اور خشکی کا علاج:

تین چار لیموں کا رس نکال لیں، بالوں کی جڑوں تک اس کا مساج کریں اور کوشش کریں کہ سر کے ساری جلد تک لیموں کا رس پہنچے۔  آدھے گھنٹے کے بعد خالص سرسوں کے تیل سے سر کی مالش کریں، بعد ازاں باریک کنگھی سے ساری سکری اور خشکی باہر نکال دیں۔ اگر بال دو مونہے ہوں تو  سرسوں کے تیل میں لیموں  کا رس ملا کر بالوں کے منہ کو دونوں ہاتھوں  سے مالش کریں، اس سے دومونہے بال جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔  اس عمل کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ سر کی اندررونی جلد میں موجود خون کی باریک شریانوں میں قوت اور سرعت پیدا ہو گی جس سے سر کے تمام بالوں کو خون کی فراہمی شروع ہو جائے گی، جب تازہ خون  بالوں کی جڑوں تک پہنچے گا تو خشکی کے خاتمے کے ساتھ ساتھ بالوں میں جان پیدا ہو گی اور یہ بالوں کے ٹوٹنے کا سلسلہ بھی رکے گا۔ انشاأللہ۔

قدرتی شیمپو خود بنائیں:

بازار میں دستیاب شیمپو کسی نہ کسی لحاظ سے ضرور نقصان پہنچاتا ہے۔ اس کا کم از کم نقصان تو مہنگا ہونا ہے۔  پھر مختلف مضر صحت اجزا ،کیمکل اور   مختلف جلدی امراض کا سبب بننے  والے شیمپو، ان کی کوالٹی، تیاری کا طریقہ کار، اس میں موجود نسخہ کا معیار اور بے شمار سوالات، ویسے بھی ہندوستان اور پاکستان میں کاسمیٹکس انڈسٹری  کا معیار قابلِ اعتماد نہیں۔

جو نسخہ میں درج کر رہا ہوں مجھے اس پر سو فیصد یقین ہے کہ یہ آپ کے سر کے بالوں کی تمام بیماریوں کے لئیے اکسیر ہے۔ کیونکہ اس میں سو فیصد خالص اجزا 
ہیں۔ بالوں کا ٹوٹنا، گرنا، کمزور ہونا، لمبے نہ ہونا، دو مونہے ہونا اور اس سے متعلقہ تمام مسائل کا حل ہے۔ انشاأ اللہ
انڈا ایک عدد،  روغن بادام  5ملی لیٹر، لیموں کا رس 5 ملی لیٹر، آملہ دو عدد۔
یہ چاروں اجزا ملا لیں، ایک پیسٹ یا مائع کی شکل میں تیار ہو جائے گا۔ پانچ منٹ تک سر میں لگا ئے رکھیں۔ اس کے بعد  سر دھو لیں۔  اس کے ساتھ خشکی اور  سکری کے خاتمہ والے  نسخہ بھی استعمال کریں۔ یہ دونوں نسخے دیکھنے میں بہت سادہ، عام اور سستے محسوس ہوں گے مگر اللہ کی رحمت کے سہارے میں دعویٰ سے کہتے ہوں کہ یہ نسخے  گیارہ دن مسلسل استعمال کر لیں، پھر دیکھیئے قدرت کے کارخانے میں کتنے سستے علاج ہیں۔

پانی سے علاج

صبح نہار منہ کم از کم سوا لیٹر پانی پینے کا معمول بنائیں۔ ایک گلاس سے شروع کریں اور آہستہ آہستہ  چار پانچ گلاس تک لے جائیں، معدہ، گردہ، مثانہ اور انتڑیاں صاف ہوں گی، تازہ خون پیدا ہو گا اور بالوں کو صاف خون کی فراہمی ہو گی، اس  سے آپ کی مجموعی صحت بہتر ہو گی اور بالوں کو قوت ملے گی۔
خواتین اپنے لباس اور خصوصاً سر کا پردہ اسلامی احکام کے مطابق کریں اس  کی برکتیں بھی آپ پر منکشف ہو جائیں گی۔ انشاأللہ

مزید طبی و روحانی مشاورت کے لئیے ہمارا فیس بک پیج لائک کریں۔
https://www.facebook.com/iftikharulhassan.rizvi


Saturday, 15 June 2013

دعوتِ اسلامی کی روحانی علاج خدمات



فیضانِ دعوت اسلامی





دعوتِ اسلامی کی روحانی علاج خدمات


"دعوتِ اسلامی"  کا تعارف لکھنے کی حاجت نہیں ہے۔  ایک غیر سیاسی اور تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر تحریک ہے۔ سو کے قریب ممالک میں  دعوتِ اسلامی کا کام موجود ہے۔  امیرِ دعوتِ اسلامی حضرت مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم القدسیہ عصرِ حاضر  کے چند ایسے اولیاء و بزرگانِ دین میں سے ہیں جن کی بات حجت کا درجہ رکھتی ہے۔ کروڑں دلوں کا چین اور قرار ہیں۔ ان کی عاجزی، انکساری اور عشقِ رسول ﷺ  کا یہ حال ہے کہ مدنی چینل پر لاکھوں لوگ انہیں دیکھ رہے ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود وہ اپنی روایتی سادگی، اتباعِ سنت اور  درویشانہ رویہ میں تبدیلی نہیں آنے دیتے۔ یہ کوئی تصنّع نہیں بلکہ  ایک حقیقت ہے۔

دعوتِ اسلامی  نے زبانی تبلیغ کے ساتھ ساتھ دورِ جدید کے ہر محاذ پر کام کیا۔ نئی ٹیکنالوجی اور میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔  دعوتِ اسلامی اس وقت  دنیا کی واحدجماعت ہے جس کا نظم و ضبط اور  انتظام و انصرام جدید دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔   ہر ہر شعبہ میں مستند و ماہر اسلامی بھائیوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔  تبلیغ، تحقیق، تفتیش، فقہ ، حدیث، تفسیر، سائنس، گونگے بہرے لوگوں کے مراکز، جیل خانہ جات میں تربیت، تعلیمِ بالغاں، اسلامی بہنوں کے مراکز، ہسپتال و شفاء خانے، غرباء و مستحقین کی خدمت،  اسلامی  مدنی یونیورسٹی کا قیام،  جدید خطوط پر طباعت و اشاعت کا کام،  پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں مدنی چینل  جیسے سارے کام  دعوتِ اسلامی کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔  

انہیں خدمات میں سے ایک اہم خدمت جو وقت اور معاشرہ کی ضرورت ہے وہ  "روحانی علاج" ہے ۔   دعوت ِ اسلامی نے اس کام کو جدید اور مربوط انداز میں پیش کیا ہے۔  یہ روحانی علاج کا سلسلہ اپنی مثال آپ ہے۔  دنیا بھر میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔   امتِ مسلمہ اپنے ہاتھوں کئیے ہوئے گناہوں کی وجہ سے مبتلائے مصیبت ہے۔  کوئی بیمار لاچار ، کوئی اولاد کے ہاتھوں بیزار، کوئی صحت کی وجہ سے پریشان اور کوئی کاروبار  میں نقصان کی وجہ سے سکون کھو بیٹھا ہے۔ دعوتِ اسلامی  کے امیر قبلہ  شیخِ طریقت مولانا محمد الیاس قادری حفظہ اللہ تعالٰی  کو متعدد مشائخ و بزرگان نے اجازت و خلافت سے نوازا تاہم آپ طریقت میں سلسلہ عالیہ قادریہ رضویہ  کے مبارک خاندان  ہی کی تعلیمات پر عمل فرماتے ہیں۔   پاکستان کے ہر ضلع اور تحصیل کی سطح پر "تعویذاتِ عطاریہ" کے نام سے  بستے/سٹال قائم ہیں جہاں عمومی طور پر  سوائے جمعۃ المبارک  روزانہ عصر تا مغرب روحانی علاج کی خدمات پیش کی جاتی ہیں۔ اس سلسلہ میں قطعاً کوئی  فیس یا پیسہ وصول نہیں کیا جاتا۔  دعوتِ اسلامی کے مراکز میں صرف اسلامی بھائیوں کو ہی روحانی علاج کے لئیے جانے کی اجازت ہے۔ اسلامی بہنیں یہ خدمت اپنے کسی محرم کو بھجوا کر حاصل کر سکتی ہیں۔   میں چشم دید گواہ ہوں میری گلی میں رہنے والا ایک لڑکا جو پیدائشی گونگا اور بہرہ تھا اللہ تعالٰی نے اسے دعوتِ اسلامی کی برکت سے سننے اور بولنے پر قدرت عطا فرما دی۔  الحمدللہ علٰی احسانہ۔ 

دعوتِ اسلامی کی یہ خدمت آنلائن بھی دستیاب ہے۔ اس سے اسلامی بہنیں بھی فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ آنلائن خدمت کے ذریعے آپ دعوتِ اسلامی کی ویب سائٹ پر جا کر فارم پر کرکے بھجوا دیں، مرکز والے آپ کو ای میل کے ذریعے روحانی علاج ارسال کر دیں گے۔ اس میں کچھ تاخیر بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ہزاروں ای میلز کا جواب دینا آسان کام نہیں ہوتا۔
دعوتِ اسلامی کی آنلائن  روحانی خدمات کے حصول کے لئیے  اس لنک پر رابطہ کریں۔

اسی طرح روزانہ صبح نو بجے تا اگلی صبح پانچ بجے تک (پاکستان ٹائم) ٹیلی فون پر بھی استخارہ کیا جاتا ہے۔ اسلامی بہنیں کال نہ کریں بلکہ اپنے کسی محرم کے ذریعے کال کریں۔ ٹیلی فون  پر استخارہ کے لئیے  دعوتِ اسلامی کراچی مرکز کے اس نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے: 00922134858711

یہ   لنک اور نمبر میں نے اس لئیے   لکھ دئیے کہ بہت سارے اسلامی بھائی اور بہنیں روحانی علاج کے لئیے جب مجھ سے رابطہ کرتے ہیں تو  وہ ملاقات  کا وقت مانگتے ہیں، یا رابطہ نمبر مانگتے ہیں۔ میں پاکستان سے باہر مقیم ہوں۔ اس لئیے نہ ہی ملاقات ممکن ہوتی ہے اور نہ ہی رابطہ نمبر عام کیا  جاسکتا ہے۔ لہٰذا میں نے دعوتِ اسلامی  سے رابطہ کی تفاصیل یہاں درج کر دیں۔ کیونکہ میرا  بھی اسی روحانی خاندان سے تعلق ہے جس سے دعوتِ اسلامی فیض  تقسیم کر رہی ہے۔ مقصد بھی ایک ہے۔ وہ بھی فی سبیل اللہ اور رضائے الٰہی کے حصول کے لئیے کام کر رہے ہیں اور میرے مرشد کریم رحمۃ اللہ علیہ کی بھی یہی تعلیمات ہیں۔

ایک انتہائی اہم بات  واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں دعوتِ اسلامی کی کسی مجلس کا رکن نہیں تاہم  میرے شیخِ کریم نائبِ محدثِ اعظم پاکستان، شیخِ الحدیث التفسیر  ، صاحبِ رشد و ہدایت پیر مفتی علامہ محمد عبد الرشید قادری رضوی رحمۃ اللہ علیہ  دعوتِ اسلامی اور امیرِ دعوتِ اسلامی سے بہت بہت محبت فرمایا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ملتان شریف کے اجتماع میں امیرِ دعوتِ اسلامی  انہیں محبت سے بیان کرنے کی دعوت دیتے اور آپ رحمۃ اللہ علیہ وہاں بیان فرماتے اور امیرِ دعوتِ اسلامی بھی آپ سے محبت فرماتے۔  حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے دارلعلوم غوثیہ رضویہ مظہر ِ اسلام سمندی شریف میں  نوٹس بورڈ پر واضح حروف میں حکماً لکھوایا تھا کہ  مدرسہ کے تمام طلباء   اپنی زندگی دعوتِ اسلامی کی مدنی ماحول میں گزاریں۔  اپنے شیخِ کریم کے حکم کی تعمیل میں آج ہم بھی دعوتِ اسلامی سے محبت کا یہ رشتہ نبھا رہے ہیں۔

دعوتِ اسلامی یا امیرِ دعوتِ اسلامی کی طرف سے کسی  کو روحانی علاج کی اجازت نہیں ہوتی۔ صرف مخصوص مراکز پر دعوتِ اسلامی کے تعینات کردہ اسلامی بھائی ہی یہ کام کرتے ہیں۔  دعوتِ اسلامی میں نظم و ضبط کی خلاف ورزی کی کوئی گنجائش نہیں۔ کچھ لوگ خود کو مولانا  محمد الیاس قادری صاحب کا مرید، دعوتِ اسلامی کا رکن وغیرہ وغیرہ بتا کر  کام کر رہے ہیں۔  یہ مثالیں پاکستان اور بیرونِ پاکستان موجود ہیں۔ یہ بات با لکل واضح ہے کہ جو کوئی دعوتِ اسلامی کے  ماحول اور نظم و ضبط سے ہٹ کر کام کرنے کی کوشش کرے  اس سے دعوتِ اسلامی بیزار ہے۔ پاکستان کے اعلٰی درجے کے نعت خوان اور کئی مفتیانِ کرام  دعوتِ اسلامی کے مراکز سے ہی فارغ التحصیل ہیں مگر جب انہوں نے وضع قطع، لباس اور معاملات میں دعوتِ اسلامی کے طریقہ کی خلاف ورزی کی تو انہیں بغیر کسی خوف اور لالچ کے فارغ کر دیا گیا۔  اب وہ لوگ اپنے کاموں میں دعوتِ اسلامی کا نام استعمال نہیں کر سکتے۔

اسی طرح  اس بات کا یقین کر لیں کہ شیخِ طریقت مولانا محمد الیاس قادری دامت برکاتہم العالیہ کی طرف سے کسی  ایسے بندے کو جس کے لباس، وضع قطع اور زندگی میں دعوتِ اسلامی کے نظم و ضبط  کی پاسداری نہ ہو اسے دعوتِ اسلامی کا کوئی کام بشمول روحانی علاج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔    میں جو روحانی علاج کی خدمات پیش کر رہا ہوں اس میں مجھے اپنے پیر خانہ اور بزرگوں کی تائید حاصل ہے۔ مجھے بھی دعوتِ اسلامی کے مرکز کی طرف سے  اجازت نہیں ، نہ میں نے حاصل کرنے کی کوشش کی اور  نہ ہی میں کسی بھی جگہ پر دعوتِ اسلامی کا نام استعمال کرتاہوں۔ باقی  بہت سارے بزرگانِ دین کے آستانے موجود ہیں جہاں وہ اپنے اپنے طریقے کے مطابق دین  وسنت کی خدمت 
کے ساتھ ساتھ لوگوں کی روحانی تربیت بھی کر رہےہیں۔

مجھ فقیر کی استطاعت میں جو ہے وہ اپنے شیخِ کریم کے قدموں کی دھول کا صدقہ پیش کر رہا ہوں، اس میں میرا کوئی کمال نہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں کی تعداد میں  احباب کا رابطہ ہوتا ہے۔ ای میلز  اور فیس بک  پیغامات کے جواب دینےمیں بعض اوقات تاخیر ہو جاتی ہے۔ اس پر میں آپ سے معافی مانگتا ہوں۔ صبر کا دامن تھامے رکھیں تاکہ یہ فی سبیل اللہ خدمت جاری رہے۔   سکائپ  پر مفت کال ہوتی ہے۔ اس کے ذریعہ رابطہ جلدی اور مسئلہ کی آسانی سے سمجھ بھی آجاتی ہے۔ میری رابطہ تفاصیل  یہ ہیں۔
Email: mi.hasan@outlook.com
Skype: mi.hasan


Thursday, 6 June 2013

کتّے کی "چِتا" جلا ڈالئیے



کتّے کی "چِتا" جلا ڈالئیے


کتّا ایک پرانا جانور ہے۔ ابو جہل سے بھی پہلے اس  کے وجود  کی خبریں ملتی ہیں۔ ہر دور میں کتے کے مختلف استعمال ہوتے رہے ہیں۔ تاریخ میں بعض مقامات پر کتے کو "شرف" بھی بخشا گیا۔  مجھے پہلی بار کتے کی اولاد  کو قریب سے دیکھنے اور پرکھنے کا موقع لگ بھگ چوبیس سال قبل ملا۔  ابو جی کے کسی دوست نے ایک عدد کتے کی بچی جسے عرفِ عام میں "کتّی" یا کتیا کہا جاتا ہے، بھجوائی۔  جن صاحب نے بھیجی وہ کوئی فوجی تھے اور مزید یہ کہ پٹھان تھے۔  تاہم ان کے حسب نسب سے میں واقف نہیں ہوں۔    شاید کوہاٹ (خیبر پختونخواہ) سے اس کتیا کی آمد ہوئی تھی اور یہ نومولود تھی۔   امّی کی گھریلو ذمہ داریوں میں یہ بھی ایک اضافہ ہو گیا کہ وہ اس نئی "مہمان" کی دیکھ بھال بھی کریں گی۔  امی کے ساتھ ساتھ ہم بھی بوتل میں دودھ ڈال کر اس "مہمان کتیا" کو دودھ پلاتے۔  بعد ازاں "زمانہ شباب" میں اس کتیا کو گھر سے رخصت ہو کر زمینوں  میں بھجوایا جانا تھا جہاں  اسے  رات کے اندھیرے میں فصلوں پر حملہ آور ہونے والے  انسان نما درندوں کا مقابلہ کرنے کا  ہدف دیا جانا تھا۔    اس کتیا کا نام   بہت  دلچسپ تھا۔  ادب اور اصولِ صحافت کے پیشِ نظر میں یہاں نہیں لکھ سکتا، صرف اتنا عرض کرتا ہوں کہ ہمسایہ ملک کی ایک بڑی "زنانہ" شخصیت سے اسے موسوم کر دیا گیا تھا (یہ قصداً نہیں تھا بلکہ عرفاً تھا)۔     یہ کتیا اپنے حسن و جمال میں آس پاس کے کم از کم چالیس دیہاتوں میں لاثانی تھی۔   مجھے پورا یقین ہے کہ فی زمانہ منعقد کئیے جانے والے مقابلہ ہائے حسن کے معیار پر اسے پرکھا جاتا تو کم از کم  وہ  "مس شکر گڑھ" ضرور منتخب ہو جاتی۔    اس کے لمبے لمبے کان جو بعد ازاں جبری جرّاحت کے ذریعے کاٹ دئیے گئے،  بلوری آنکھیں،  گورا چٹّا رنگ،  پتلی پتلی ٹانگیں اور ماتھے پر ہلکا سا سیاہی مائل   تلک اسے اپنی معاصر "حسیناؤں" سے ممتاز کرتا تھا۔ 

اسی کتیا کی خاص اور سبق آموز بات یہ کہ وہ انسانی "حسیناؤں" کے بر عکس بہت وفا دار تھی۔   گھر کے ہر فرد کو خوب پہچانتی،  گاؤں کے باہر سے ہمارے ساتھ گھر تک بطور  محافظ چلتی،  راستے میں اگر کوئی انسانی شکل میں بھونکنے کی کوشش کرتا تو اسے آڑے ہاتھوں لیتی۔    یہ کتیا  "زمانہِ امن" میں انتہائی خاموش طبع واقع ہوئی تھی تاہم کسی قسم کے خطرے کی صورت میں وہ چاک و  چوبند رہتی، یعنی غیر ضروری کلام کا تکلف نہ کرتی تھی۔  

 ایک صبح  کسی نے گھر پر بری خبر دی کہ ہماری کتیا ایک سڑک حادثہ میں  شدید زخمی ہو گئی ہے،  موقع پر پہنچ کر اسے ابتدائی طبی امداد دی اور پھر  زخمی حالت میں اسے ایک مخصوص مقام پر منتقل کیا گیا،  جہاں وہ علاج اور دیکھ بھال کے باوجود   مر گئی۔ 

اس وفادارا کتیا کے مرنے کے بعد  زمینوں کی رکھوالی کے لئیے بہت بڑے بڑے "کتے" لائے گئے، ان کے بڑے بڑے منہ، موٹی موٹی آنکھیں، دراز قد اور خوفناک شکلیں تھیں۔  مگر یہ کتے صرف بھونکنے والے تھے۔   یہ کتے بھونکتے رہتے، لوگ زمینوں سے چوریاں کرتے، کچھ جنگلی جانور بھی زمینوں اور فصلوں کو نقصان پہنچاتے مگر یہ کتے اپنی  مخصوص "بھونک" کے سوا کچھ بھی نہ کرتے۔  الٹا نقصان  کہ  یہ کتے گندھک ملے دیسی گھی  کے پراٹھے،  دودھ اور نہ جانے کون کون سے کشتے "تناول" کرنے کے باوجود "بھونکے کتے" کا کردار ہی ادا کرتے۔ 

بھونکنے والے جانور کا  دوسری مرتبہ قریبی تجزیہ کرنے کا موقع اس وقت ملا جب میں  میرپور (کشمیر) کی ہوسٹل لائف میں پہنچا۔   کالج کا  جغرافیہ بڑا عجیب و غریب تھا۔  چھ سو کنال پر محیط کالج میں آڈیٹوریم، ہوسٹل، میس اور میرے کمرے تک کے سفر میں گھنٹوں بھیت جاتے۔  میرا کمرے اس کونے میں واقع تھا جس کے بالکل سامنے جنگل، اور پھر بہت زیادہ گہرائی، کچھ فاصلے پر ایک ندی، اس کے بعد منگلا ڈیم سے متصل سڑک اور پھر منگلا ڈیم کے نیلے پانیوں والی ایک جھیل۔ 

عشاء کی نماز کے فوری بعد میں کمرہ میں داخل ہو جاتا اور  کمرہ بند۔  تھوڑا مطالعہ اور ریڈیو سننے کے بعد  میں سونے کا ارادہ کرتا تو بھونکنے کی آوازیں شروع ہو جاتیں، میرے لئیے مشکل یہ ہوتی کہ سمجھ نہ پاتا تھا کہ بھونکنے والا جانور کس نسل سے تعلق رکھتا ہے۔ کبھی اس کے بھونکنے میں غصہ، کبھی شرارت اور کبھی کوئی "چوّل" سی حرکت محسوس ہوتی کہ اس جنگل میں نہ تو کوئی انسان ہے نہ کوئی اور جاندار تو ان کے بھونکنے  کا کیا مقصد؟؟؟  ایک دن کالج کے کچھ سٹاف اور طلباء نے مل کر پروگرام بنایا کہ آج رات شکار کے لئیے ندی کنارے جائیں گے۔  حسبِ ارادہ ہم نکلے تو ہمیں پوری رات بھونکنے کی آوازیں آتی رہیں مگر کوئی بھونکنے والا ہمارے نزدیک نہ آیا۔   اگر کہیں شک ہوتا تو زور سے پاؤں زمین  پر مار دیتے، یا غرّا دیتے تو آوازیں بند ہو جاتیں یعنی وہ کتوں کی ایک نسل جسے گیدڑ کہا جاتا ہے، وہ تھے۔  تب مجھے اندازہ ہوا کہ ہماری وفا دار کتیا کے مر جانے کے بعد جو کتے ہم نے پالے تھے وہ بھی ایسے ہی تھے۔۔۔ صرف کھانے والے۔۔۔  شکاری اپنا کام کرتے اور کتے بھونکتے ہی رہ جاتے۔۔۔

انسان اللہ کی سب سے اچھی مخلوق ہے اس لئیے اسے کتوں کے ساتھ ملانا ایک جرم، بد اخلاقی اور توہینِ تخلیقِ خدا تعالیٰ ہے۔  مگر کئی بزرگ شعراء اور صوفیاء نے کتے کو انسان کی نسبت زیادہ وفا شعار اور  پاسدار لکھا ہے۔ اگر کتے کی اس عادت کو انسان کے ساتھ تقابل کیا جا سکتا ہے تو اس کی کچھ بری عادات کا موازنہ بھی کر لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
بھونکنے والے کتے بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔  ایک وہ جو صرف بھونکتے ہیں۔ اگر آپ تھوڑے سے آگے بڑھیں تو وہ دم دبا کر  چیخیں مارتے ہوئے بھاگ نکلیں گے۔۔۔ دوسرے وہ جو ہر حال میں بھونکتے ہیں۔  یہ کتے انتہائی "لیچڑ" قسم کے ہوتے ہیں۔  ان کی تربیت زیادہ تر  فٹ پاتھ، کوڑے کے ڈھیر اور گندگی کے مراکز پر ہوتی ہے۔  یہ کتے کسی بھی صورت چپ نہیں ہوتے۔   سمجھدار لوگ ان کتوں کی پرواہ نہیں کرتے،   کیونکہ ضروری تو نہیں کہ یہ کتا ہی ہو،  ہو سکتا ہے وہ کتا نما شیطان ہو۔۔۔ لہٰذا تعوّذ پڑھئیے اور  سفر جاری رکھئیے۔

کتوں کا احترام  بھی کیا جاتا ہے۔۔۔ خصوصا مسلمان پڑوسی کے کتے کا احترام کرنا چاہئیے۔  ہمارے ایک ہمسائے بابا جی ہوتے تھے۔ انہوں نے ایک کتا پال رکھا تھا، بابا جی برطانیہ چلے گئے۔  اپنے مالک کی یاد میں کتا بہت رویا۔  مغرب کے قریب کتے کی بے چینی حد سے بڑھ گئی تو وہ اپنے مالک کی تلاش میں ہمارے دروازے پر آلپکا۔  میں نے کتے تو دھتکارا تو  چچا جی نے فرمایا یہ ہمارے ہمسائے کا کتا ہے ، اس پر ظلم نہ کرو بلکہ وہ اپنے مالک کی یاد  مین در در پر دستک دے رہا ہے۔  ۔۔  اس سے سبق حاصل کرو۔
قارئینِ کرام!
کتوں کے بھونکنے سے سبق حاصل کیجئے۔ اگر کتا وفا دار ہو تو  سبق اور اگر کتا "بکواس" کرنے والا ہے تو اسے نظر انداز کیجئیے۔  اپنے قدم جما کر رکھئیے اور منزل کی طرف رواں دواں رہئیے۔  کتا ہمیں یہ بھی سبق دلاتا ہے کہ  ہمیشہ اپنے بڑوں کا احترام کیجئیے۔  بزرگوں کا ادب، جس کا دانہ کھا لو اس کا احترام، جس کی نسبت مل جائے اس سے وفا کرو اور کبھی دغا مت دو۔

کتے چغلی نہیں کرتے، نہ ہی غیبت کرتے ہیں، کتے اپنی قوم میں اختلاف اور فساد برپا نہیں کرتے،  کتے  جس گھر میں رہتے ہیں وہاں سب کا احترام کرتے ہیں، شکایتیں لگا کر لڑائی نہیں کرواتے۔   اسی گھر میں موجود کچھ بچے اس کتے کو مارتے بھی ہیں، کتا ان سے تھوڑا دور ضرور ہو جاتا ہے مگر وہ فساد نہیں کرواتا۔ 


ہمارے لئیے سبق کی بات یہ ہے کہ ہماری زندگی میں بھونکنے والے رکاوٹ نہ بنیں۔   اگر کوئی بھونک رہا ہے تو اسے نظر انداز کریں ۔  کتا  ہمیں ادب و احترام بھی سکھاتا ہے۔۔۔ جس نے ایک لفظ بھی سکھایا اس کا احترام کیجئیے۔۔۔ خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو۔    تاہم اگر کوئی کتا  (نر یا مادہ ) آپ اور آپ کے پیاروں کے بیچ میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرے۔  آپ کے علم و حکمت کی راہ میں رکاوٹ بنے، آپ کو آپ کے اساتذہ  و مشائخ، والدین، دوست احباب اور عزیزوں سے دور کرنے کی کوشش کرے تو اسے "شمشان گھاٹ" پہنچانے میں تاخیر نہ کیجئیے۔   خصوصا ایسا بھونکنے والا جس میں چغلی، غیبت اور  فساد پھیلانے  کی برائیاں موجود ہوں اس کی "چتا" بھی جلا ڈالئیے۔  

Monday, 3 June 2013

دشمن سے حفاظت کے وظائف



دشمن سے حفاظت کے وظائف


یہ ایک حقیقت ہے کہ ہماری ہر خرابی کی بنیاد  اللہ تعالٰی کے احکام کی خلاف ورزی اور  اسوہِ رسول ﷺ سے قطع نظر کرنا ہے۔   جب اللہ تعالٰی نے اپنے  سب سے پیارے محبوب ﷺ کو اس دنیا میں  ہماری رہبری کے لئیے ظاہر و مبعوث فرمایا اس وقت ہر برائی  موجود تھی بلکہ بہت ساری ایسی قباحتیں بھی تھیں جو آج کے معاشرے میں ناپید ہو چکی ہیں۔   اخلاقی، معاشرتی، مذہبی ، سیاسی و اجتماعی برائیوں کا مقابلہ اس وقت بھی ایک مشکل کام تھا مگر شارعِ اسلام ﷺ نے اپنے قول، فعل اور عمل سے ہر برائی کو روکا اور انسانیت کو  فلاح کا راستہ دکھایا۔   اکثریت  نے اس پیغام کو قبول کر لیا اور کامیاب و 
کامران ہو گئے اور بہت سوں نے  انکار بھی کیا۔

بنیادی طور پر تو ہم سب آدم کی اولاد ہیں۔   دنیا کے اس سفر میں  ارتقائی مراحل سے گزرتے ہوئے  رنگ و نسل کا فرق آگیا۔   عقائد و نظریات بھی مختلف ہو گئے اور یہ سلسلہ ہابیل اور قابیل  کے لڑائی سے بھی ملتا جلتا ہے جو کہ اس سے قبل میں ایک کالم میں لکھ چکا ہوں۔   شیطان نے اس بات کا مستقل عزم کیا  ہوا ہے کہ وہ اولادِ آدم کو ہر وہ کام کرنے پر مجبور کرے  گا اور ورغلائے گا جس میں انسان و انسانیت کا نقصان ہو۔  یہی وجہ ہے کہ آج  سگے بھائی، ماں باپ، میاں بیوی اور انتہائی قریبی رشتہ دار ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔   ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔  نسل در نسل قتل و غارت کا سلسلہ جاری ہے۔  ایک چھوٹے سے گھریلو مسئلے سے شروع ہونے والا اختلاف  ایک خاندان کے خون کی ندیاں بہانے پر منتج ہوتا ہے۔   جوں جوں قیامت قریب آ رہی ہے لڑائی اور دشمنی کے انداز بھی بدل  رہے ہیں۔  کبھی نمبرداری، چوہدراہٹ،  حویلی اور ووٹ  کی بنیاد پر دشمنی ہوتی تھی مگر   آج کا مسلمان اخلاقی لحاظ سے اس قدر کمزور ہو چکا ہے کہ معاشرے میں موجود دشمنیوں کی وجوہات سن کر سر شرم سے جھک جاتا ہے۔   کئی بار یہ تجربہ بھی ہوا کہ  "روحانی علاج" کے سلسلہ میں ای میل اور کالز موصول ہوئیں کہ میں ایک لڑکی کو پسند کرتا تھا اس نے کہیں اور شادی کر لی ہے،  آپ مجھے وظیفہ دیں کہ وہ طلاق لے ورنہ میں اسے قتل کر دوں گا وغیرہ وغیرہ۔۔۔  یاد رکھیں یہ ایک ایسی سوچ اور عمل ہے جو براہِ راست خدائے بزرگ و برتر سے ٹکر  لینے کے مترادف ہے۔   ذہنی پستی، گھر کے ماحول کی بے برکتی،  ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں دیکھے جانے والے مناظر ہماری اولادوں کی جڑیں کھوکھلی کر نے میں بنیادی کردار ہیں۔

اس ساری صورتحال میں یقیناً ہمیں اپنے جان و مال کی حفاظت کی ضرورت ہوتی ہے۔   دشمنی تو سگے بھائی سے بھی ہو سکتی ہے۔  خاندانی دشمنی، مذہبی دشمنی، سیاسی دشمنی اور پھر روحانی دشمنی۔۔۔  بہر حال اللہ تعالٰی سے خیر طلب کی جانی چاہئیے۔  جو آپ کا  برا  چاہے اس کی بھلائی کی دعا کریں کہ اللہ اسے ہدایت عطا کرے۔   معاف کرنے والے کے لئیے اللہ اور اس کے حبیب ﷺ نے بے شمار انعام رکھے ہیں۔  آج دنیا میں کسی کے گناہ معاف  کریں گے تو روزِ قیامت اللہ ہمارے معاملات آسان فرما دے گا۔

دشمن سے نجات کے وظائف کی اکثر نوبت آتی رہتی ہے۔  جب جان، مال، اولاد اور عزت محفوظ نہ رہے تو پھر منہ بند کرنا بھی ضروری ہوتا ہے ورنہ  شریر انسان  بے لگام ہو کر دوسروں کے لئیے بھی نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔  مگر پھر بھی میرا آپ کے لئیے مشورہ ہے کہ حتی الوسع  درگزر کی کوشش کریں۔   اولیائے کاملین کا بھی یہی طریقہ تھا اور ہے۔  بعض ایسے معاملات جس میں  فتنہ و فساد کا  اندیشہ ہو وہاں  دشمن   کا خاتمہ ضروری ہوتا ہے۔

دشمن اور حاسدین سے نجات کے متعدد وظائف ہیں۔  بات عمل اور یقین کی ہے۔  جب یقین اپنے عروج کو پہنچ جاتا ہے پھر زبان سے کچھ کہنے یا پڑھنے کی حاجت بھی باقی نہیں رہتی۔  اللہ کے ولی تو  تصور میں ہی ایسا گرا دیتے ہیں کہ  دشمن ساری زندگی  ذلت و رسوائی میں مبتلا رہے۔   میں یہاں پر حفاظت کے کچھ وظائف پیش کر رہا ہوں، عام فہم ہیں اور ہر کوئی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔  پیچیدہ اور  مشکل وظائف اس طرح عام نہیں کئیے جا سکتے کہ بہت سارے لوگ ان وظائف و عملیات کو پڑھنے، آداب اور طریقہ سے ناواقف ہوتے ہیں۔  اس لئیے انہیں میں سے حسبِ ضرورت انتخاب کر لیجئیے۔
وظائف پڑھتے وقت دشمن کی ہلاکت کا تصور نہ کریں بلکہ اس کے شر، حملے سے بچنے کی نیت کریں اور اللہ سے اس کے لئیے ہدایت طلب کریں تاکہ وہ بھی ایک اچھا مسلمان بن کر ندگی گزارے۔

عمل نمبر1-  روزانہ بعد نمازِ عشاء ایک سو ایک مرتبہ یہ دعا پڑھ لیں۔

  اللَّهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ، وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِم 

ہر نماز کے بعد 11 بار اپنے ورد میں رکھیں۔ انشاء اللہ دشمن کے حملے اور شر سے حفاظت ہوگی۔

عمل نمبر 2-  ہر نماز کے بعد تین بار یہ دونوں دعائیں اپنے ورد میں رکھیں۔
اَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہ التَّامَّاتِ مِن شَرِّ مَاخَلَقَ

بِسْمِ الله الّذِي لا يَضُرّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ في الأرْضِ وَلا في السّمَاءِ وَهُوَ السّمِيعُ العَلِيمُ،


عمل نمبر3- آخری تینوں قل فجر اور عصر کےبعد  پڑھیں۔ ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی۔  سونے سے قبل سورہ فاتحہ، پھر آیۃ الکرسی، پھر آخری تینوں قل پڑھیں، سب سے آخر میں سورہ الکافرون پڑھ کر اپنی دائیں ہتھیلی پر دم کر کے سو جائیں۔ 

عمل نمبر 4۔  اگر دشمن کے ساتھ کسی معاملہ میں مقدمہ ، پنچایت اور عدالت  کا سامنا ہو تو یہ والے دونوں عمل کر لیں۔

سجد ہ میں طاق تعداد میں یہ آیت پڑھیں۔   رَبَ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ

زیادہ سے زیادہ طاق تعداد میں پڑھیں اور پڑھتے ہوئے دشمن کا تصور کریں، اللہ سے عاجزی کے ساتھ تصوراتی اور قلبی طور پر دعا کریں کہ اے اللہ عزوجل میں کمزور ہوں، تو طاقت و عظمت والا ہے ، میں مغلوب ہوں تو میری مدد فرما۔

روزانہ نمازِ فجر سے قبل یا بعد چار سو بار  حَسبُنَا اللَّهُ وَنِعمَ الوَكيلُ وَنِعمَ المَولیٰ وَنِعمَ النَّصیر پڑھیں۔

 

عمل نمبر 5۔ روزانہ بعد نمازِ عشاء  101 بار سورہ "القریش" پڑھیں۔

 

مندرجہ بالا وظائف میں سے ہر ایک عمل اور وظیفہ مجرب و مبارک ہے۔ تیر بہدف ہے، مگر اس کی بنیاد  اخلاص، یقین، ادب و احترام اور آپ کی نیت و گمان پر ہے۔  ہر وظیفہ کے اول آخر 11 بار درود شریف پڑھیں۔ آخر میں خلوص سے دعا کریں۔

 

اگر معاملہ مزید پیچیدہ ہو تو ہماری فی سبیل اللہ روحانی خدمات آپ کے لئیے حاضر ہیں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو ایک دوسرے کے لئیے آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ انسان، جنات اور شیاطین کے وسواس و حملوں سے حفاظت عطا فرمائے۔ آمین


Email: iftikhar.abu.hasaan@gmail.com
Skype: mi.hasan

Saturday, 25 May 2013

تیسرا کلمہ تمجید۔۔۔فضائل و برکات



تیسرا کلمہ تمجید۔۔۔فضائل و برکات



عصرِ حاضر میں اہلِ اسلام کی پریشانیوں کی عمومی وجوہات  دین سے دوری، اسلامی تعلیمات  پر عمل نہ کرنا، اللہ تعالٰی  کی ناراضگی اور رسول اکرم ﷺ کی شریعت و سنت کے خلاف ورزی ہیں۔   بقا کو چھوڑ کر فنا ہونے والی دنیا کی پوجا،  نفس پرستی، اللہ کی رضا کی بجائے اپنی منشاء و رضا مندی کے حصول کی کوشش، کتاب و سنت کو خود پر نافذ کرنے کی بجائے اسلام کو اپنی مرضی کی زاویے سے دیکھنا، اپنی سہولت کے لئیے دین میں نرمی اور آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش اور اصلاح کرنے والے سے یہ امید رکھنا کہ وہ ہماری مرضی کے مطابق دین و شریعت کو بیان کرے،  طرزِ معاشرت، آداب زندگی، شرعی قوانین، فقہی مسائل،  انبیاء کرام علیہم السلام، اصحاب و الیاء کرام علیہم الرضوان کی تعلیمات سے فیض یاب ہونے کی بجائے اپنی اصطلاحات کو متعارف کروانا اور پھر اس پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا۔  یہ وہ تمام مسائل ہیں جنہوں نے اہلِ اسلام کی زندگی میں رکاوٹیں، پریشانیاں اور نفسیاتی مسائل کے پہاڑ کھڑے کر دئیے ہیں۔  اس سلسلہ میں انفرادی طور پر ہم بھی مجرم ہیں اور امت کی قیادت بھی برابر کی شریک ہے۔

روحانی علاج  کے سلسلہ میں دنیا بھر میں موجود بہنیں اور بھائی رابطہ کرتے ہیں۔  اکثریت کا مسئلہ ذہنی پریشانی اور بے سکونی سے ہی شروع ہوتا ہے۔   جب شیطان ذہن پر حاوی ہوتا ہے پھر میاں بیوی کے جھگڑے، اولاد کی نافرمانیاں، نماز میں دل نہ لگنا،  کاروبار میں بے برکتی، شادی و نکاح میں رکاوٹ، صحت کی خرابی،  دماغی کیفیت میں رد و بدل اور بہت کچھ۔  جب کسی کے دل سے رحمت اٹھ جائے،   احکامِ الٰہیہ کہ خلاف ورزی شروع ہو جائے تو پھر شیطان اپنے راستے ہموار کر لیتا ہے۔  اس ساری کیفیت کو ہمارے لوگ جادو سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ حقیقت میں یہ جادو نہیں ہوتا بلکہ شیطان کا حملہ ہوتا ہے۔   ایسے لوگ جب عاملین سے رابطہ کرتے ہیں تو بہت سارے عامل اس پریشانی میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔   کوئی اسے جنّات کا حملہ کہے گا تو کوئی کالا اور سفلی علم۔  اس سے لوگوں کی پریشانی  میں شدید اضافہ ہو جاتا ہے۔  لوٹنے والے عامل پیسے مانگتے ہیں اور ہزاروں روپے غرق کر دئیے جاتے ہیں۔   

حقیقت تو یہ ہے کہ ان ساری پریشانیوں سے نجات کے لئیے  قرآن و سنت کے مطابق اور اولیاء کاملین کے فرامین پر عمل کر کے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔  بنیادی طور پر ان مسائل میں مبتلا لوگوں کو اللہ کے قریب لانے کی ضرورت ہوتی ہے۔  ایسے لوگوں کو اگر سوا لاکھ کلمہ پڑھنے کی ہدایت کر دی جائے اور قرآن کریم کی لمبی لمبی سورتیں پڑھنے کو بتا دی جائیں تو وہ کبھی بھی اس پر عمل نہیں کریں گے۔  جو بندہ نماز کے لئیے وضو کرنے کو تیار نہیں وہ   لمبے لمبے وظائف کیسے کرے گا؟  ایسوں کو ابتدائی طور پر توبہ و استغفار کی طرف لایا جائے اور کسی ولی ِ کامل کی بارگاہ سے اس کی بھلائی کی دعا کروائی جائے تاکہ اس کے دل کی حالت بدلے اور وہ ہدایت پا جائے۔
میں نے  جب سے ہوش سنبھالا عملیات و وظائف کو اپنے  آس پاس دیکھا۔  والدِ گرامی سے لےکر مرشدِ کریم   حضور نائبِ محدث اعظم، شیخ الحدیث  والفقہ والتفسیر علامہ مفتی پیر محمد عبد الرشید قادری ر ضوی رحمۃ اللہ علیہم تک یہ تجربات و مشاہدات سامنے آتے رہے۔  میں نے تمام بزرگان سے ایک سبق سیکھا کہ ذہنی، نفسیاتی اور معاشرتی مسائل کے شکار ہر انسان کو اللہ کے قریب لاؤ۔  توبہ و استغفار کی طرف راغب کرو۔  اس سلسلہ میں استغفار کی کثرت اور تیسرا کلمہ کا ورد اکسیر ثابت ہوا۔  حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ، آپ کے جانشین پیر ابو الحسن محمد غوث رضوی صاحب دامت برکاتہم العالیہ سمیت کئی بزرگوں کو دیکھا کہ وہ روحانی علاج  استغفار اور تیسرا کلمہ سے شروع فرماتے ہیں۔    تیسرا کلمہ کیا ہے؟  اس کی برکات کیا ہیں؟  ملاحظہ فرمائیے اور اپنی زندگی میں اس کا تجربہ کیجئیے۔
تیسرا کلمہ  پانچ اوراد اور وظائف کا مجموعہ ہے۔
1- سبحان اللہ۔ 2- الحمدللہ۔ 3- اللہ اکبر۔
یہ تینوں وہ کلمات ہیں جن کو تسبیحِ فاطمی بھی کہا جاتا ہے۔ مخدومہ کائنات ہمارے آقا ﷺ کے جگر کا ٹکڑا سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے۔ پھر رسول رحمت ﷺ نے جب یہ وظیفہ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کو عطا فرمایا تو اس وقت یہ کرم بھی فرمایا کہ اس کے بدلے میں اللہ تعالٰی سو غلاموں کو آزاد کرنے کا ثواب عطا فرمائے گا۔ سبحان اللہ۔   (ہر نماز کے بعد بالترتیب 33-33-34 مرتبہ) ۔

اسی طرح اس میں کلمہ طیبہ کا جز بھی شامل ہے۔ "لاالہ اللہ ۔ پھر آخر میں "لا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم"۔ اللہ کی تسبیح، حمد، کبریائی کے ساتھ ساتھ اس کے معبودِ برحق ہونے اور ہر تقدیر پر قادر ہونے کا اعتراف و اقرار بھی اس میں موجود ہے۔

اسی طرح علماء کرام نے اس کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ  حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہٗ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عرش بنایا اور فرشتوں کو اسے اٹھانے کا حکم دیا تو فرشتوں کو عرش بہت وزنی محسوس ہوا اس وقت فرشتوں کو سبحان اللہ پڑھنے کو کہا چنانچہ اس کو پڑھتے ہی عرش اٹھانا آسان ہوگیا فرشتے برابر اس کلمے کو پڑھتے رہے یہاں تک کہ حضرت آدم علیہ السلام وجود میں آئے اور ان کو چھینک آئی تو الحمدللہ پڑھنے کا حکم دیا اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا یرحمک اللہ۔  فرشتوں نے یہ کلمہ سنا تو سبحان اللہ کے ساتھ الحمدللہ بھی پڑھنے لگے،    حضرت نوح علیہ السلام کا زمانہ آیا تو بت پرستی کیخلاف اللہ نے حکم دیا کہ قوم کو لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی تلقین کرو۔  فرشتوں نے اس کو بھی ملا کر پڑھنا شروع کردیا حتیٰ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ آیا حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم ملا۔  تعمیل کرنے لگے تو جنت سے جبرائیل علیہ السلام دنبہ لیکر آئے کہ اسماعیل علیہ السلام کی جگہ اس کو قربان کردو۔  حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے خوشی سے نکلا اللہ اکبر۔  فرشتوں نے اس کو بھی ملالیا اور یوں پڑھنے لگے یہاں تک کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا زمانہ آیا۔  حضرت جبرائیل علیہ السلام نے یہ واقعہ آپ ﷺ کو سنایا تو آپ ﷺ نے اظہار تعجب کیلئے فرمایا  لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ  فرشتوں نے یہ بھی ساتھ ملا لیا اور یوں تیسرا کلمہ مکمل ہوا۔

صاحبِ  "جمع الفوائد " لکھتے ہیں کہ  "آقائے دوجہاں ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا تم میں سے کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو احد پہاڑ کے برابر عمل کرلیا کرے؟  عرض کی کہ وہ کیسے یارسول اللہ ﷺ؟  آپﷺ نے فرمایا کہ ہر شخص کرسکتا ہے کیونکہ سبحان اللہ پڑھنے کا ثواب احد سے زیادہ ہے۔  لاالہ الا اللہ کا ثواب احد سے زیادہ ہے۔  الحمدللہ کا ثواب احد سے زیادہ ہے۔  اللہ اکبر کا ثواب احد سے زیادہ ہے
رسولِ رحمت ﷺ کی زبان مبارک اور پھر اولیاء صالحین و کاملین کے عمل سے ثابت ہوا کہ اس کلمہ میں کوئی انمول خزینہ ضرور چھپا ہوا ہے کہ مدینے والا آقاﷺ نے تو اس میں موجود کلمات کو احد جیسے  بلند مرتبت پہاڑ سے بھی زیادہ با برکت قرار دیا۔   بزرگانِ دین  نے اس کے بہت سے فضائل لکھے۔ میں اپنے تجربات پیش کرتا ہوں۔
میں نے خود اپنی زندگی میں آزمایا اور  اب تک ہزاروں لوگوں کو بتا چکا ہوں، الحمدللہ برکتیں  نصیب ہوئیں۔ اگر کہیں کمی ہو تو وہ اپنے یقین اور اعتماد میں ہوتی ہے۔

ذہنی سکون، گھریلو پریشانیاں، میاں بیوی کے اختلافات، رزق میں تنگی،  کاموں میں رکاوٹ، مقدمات میں پریشانی، عبادات میں دل لگانے کے لئیے، روحانی ترقی پانے کے لئیے،  جادو، شیطانی اثرات اور جنات سے نجات پانے کے لئیے الغرض ایک مسلمان کے ہر روحانی مسئلے کے حل کے لئیے تیسرا کلمہ ایک عظیم نعمت ہے۔   میرے والدِ گرامی جنات کی حاضری تک کے لئیے تیسرا کلمہ کی مدد لیتے ہیں اور بھرپور کامیابی و فائدہ ہوتا ہے۔  جس قدر ایمان پختہ اور یقین مضبوط ہو گا اتنی ہی لذت و حلاوت محسوس ہو گی۔
طریقہ عمل:
ذہنی، کاروباری اور بد اثرات کے مسائل کے لئیے، نمازِ فجر سے پہلے یا بعد میں 100 بار درود شریف، پھر 100 بار تیسرا کلمہ پڑھیں۔  اسی طرح عشاء کے بعد یہ عمل کریں۔

اگر کوئی مشکل کام درپیش ہو، سختی کا وقت ہو یا کوئی مہم در پیش ہو ، حاسدین  سے حفاظت کی ضرورت ہو تو بعد نمازِ عشاء 111 بار "یاحی یا قیوم برحمتک استغیث" کے ساتھ ملا کر پڑھیں۔ انشاء اللہ رحمت کا نزول ہو گا۔
تمام خواتین و حضرات  جو روحانی علاج کے طالب ہیں ، روزانہ صبح شام تیسرا کلمہ اپنے ورد میں شامل کر لیں۔   ہر نماز کے بعد کم از کم 11 بار یا 3 بار اپنے معمول میں شامل کر لیں۔   اگر اللہ کی تسبیح و تحمید اور استغفار  آپ کے معمول میں شامل رہے تو انشاء اللہ کسی  کے پاس جانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔   نہ آپ کا پیسہ ضائع ہو گا اور نہ ہی آپ کے کسی میں رکاوٹ  ہو گی۔ انشاء اللہ۔

فی سبیل اللہ روحانی علاج کے لئیے آپ ہمیں ای میل، سکائپ اور فیس بک کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔ الحمد للہ علیٰ احسانہ  کہ پوری دنیا میں یہ سلسلہ عام ہو رہا ہے۔  اس کی کوئی فیس نہیں ہے۔    میں عام ملاقات نہیں کر سکتا اس لئیے ای میل، فون اور سکائپ کے ذریعہ یہ خدمت جاری ہے ۔  بعض اوقات اگر کسی کو کئی تعویذ وغیرہ بھجوانے  کی ضرورت پیش آئے تو اس کا انتظام  ضرورتمند پر ہوتا ہے تاہم کسی قسم کی کوئی فیس وغیرہ نہیں لی جاتی۔ الحمدللہ۔ 


اس خدمت کے سلسلے کو جاری رکھنے کے لئیے آپ کی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اللہ کریم ہمیں حاسدین اور شریروں کے 
شر سے بچائے اور مخلوقِ خدا کی خدمت جاری رہے۔

ہمارے فیس بک پیجز: https://www.facebook.com/elaj.roohani

Email:  mi.hasan@outlook.com
Skype: mi.hasan